New Series

Nizam e Aalam

  • Description
  • View

سلجوقی سلطنت 11ویں تا 14ویں صدی عیسوی کے درمیان میں مشرق وسطی اور وسط ایشیا میں قائم ایک مسلم بادشاہت تھی جو نسلا اوغوز ترک تھے۔ مسلم تاریخ میں اسے بہت اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ دولت عباسیہ کے خاتمے کے بعد عالم اسلام کو ایک مرکز پر جمع کرنے والی آخری سلطنت تھی۔ اس کی سرحدیں ایک جانب چین سے لے کر بحیرۂ متوسط اور دوسری جانب عدن لے کر خوارزم و بخارا تک پھیلی ہوئی تھیں۔ ان کا عہد تاریخ اسلام کا آخری عہد زریں کہلا سکتا ہے اسی لیے سلاجقہ کو مسلم تاریخ میں خاص درجہ و مقام حاصل ہے۔ سلجوقیوں کے زوال کے ساتھ امت مسلمہ میں جس سیاسی انتشار کا آغاز ہوا اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اہلیان یورپ نے مسلمانوں پر صلیبی جنگیں مسلط کیں اور عالم اسلام کے قلب میں مقدس ترین مقام (بیت المقدس) پر قبضہ کر لیا۔اسی لڑی کے ایک سپوت  جلال الدولہ ملک شاہ المعروف ملک شاہ اول (فارسی: معزالدنیا و الدین ملک شاه بن محمد الپ ارسلان قسیم امیرالمومنین) جو 1072ء سے 1092ء تک سلجوقی سلطنت کا حکمران رہا۔ وہ اپنے والد الپ ارسلان کی وفات کے بعد تخت نشین ہوا۔ یہ لائق اور بہادر باپ کا سچا جانشیں تھا اور اوصاف میں اسی کے مشابہ تھا۔ الپ ارسلان نے اپنی زندگی میں اس کو نامزد کر دیا تھا۔ عباسی خلیفہ قائم باللہ نے اس کی حکومت کی تصدیق کی اور اس کا سکہ اور خطبہ سارے سلجوقی مقبوضات میں جاری ہو گیا۔ اس کا عہد سیاسی عروج، علمی ترقی اور دینی عظمت کے لحاظ سے بہت اہم تھا۔ اس کے عہد میں نہ صرف پورے دمشق کو سلجوقی حکومت میں شامل کر لیا گیا بلکہ ترکستان کو فتح کرکے خاقان چین سے بھی خراج وصول کیا گیا اور اسلامی جھنڈا ساحل شام تک لہرایا۔ اس کے عہد میں ہر جگہ فارغ البالی اور امن و عافیت تھی۔ تجارت اور صنعت کو فروغ حاصل تھا۔ راستے محفوظ تھا اور اس کا عہد ہر اعتبار سے سنہری کہلانے کا مستحق تھا۔ علمی ترقی، دینی عظمت، معاشی خوشحالی اور تمدنی عروج کسی جگہ کمی نہ تھی۔ وہ بلا کا شجاع اور بہادر تھا اور جہاں رخ کیا وہاں کامیابی حاصل کی۔ دشمن کو زیر کیا اور سلجوقی حکومت کو وسعت دی۔عظیم سلجوقی سلطان ملک شاہ کا فرزند ۔ ترکوں کی تاریخ کا عظیم پہلو ۔ ڈرامہ نظام عالم کا مرکزی کردار سنجر ۔سلجوقی سلطنت اوراصفہان محل کا وارث ہونے کے باوجود ایک قبیلے میں پرورش پائی اور نا آشناؤںکی طرح ایک عام انسان کی زندگی گزارتارہا ۔سلطنت کے لیے جب بھی قربانی دینے کا وقت آیا تو اول صف کا پہلا سپاہی ہونے کو اعزاز سمجھا ۔ ارادے اتنے بلند کہ نا ممکن کا لفظ زباں پر زہر سمجھتا ۔عقاب کے جیسی نگاہیں اور شیروں جیسی چال ۔تلوار سے رشتہ اس قدر مضبوط گویا اس کے حکم پر چلتی ہو ۔وہ اکیلا دشمن کی نیندیں حرام کرنے کے لیے کافی تھا ۔ریاست کا خاص سپاہی کہلانے والا اسی سلطنت کا وارث تھا لیکن یہ بات سلطان ملک شاہ کو بھی معلوم نہیں تھی ۔  جب کبھی سلطنت کسی مشکل کا شکار ہوتی تو سنجر امید کا سورج بن کر طلوع ہوتا ۔

ONLINE STREAMING

Watch Full Episode

226.1 k